وہ مری زندگی کا افسانہ

Naeem Saba

وہ مری زندگی کا افسانہ

جب کبھی مجھ کو یاد آتا ہے

دل میں خوشبو سی پھیل جاتی ہے

کوئی خوابوں میں مسکراتا ہے

شب کی تنہائیوں میں بھی اکثر

کوئی آواز مجھ کو دیتا ہے

نام لے کر پکارتا ہے مجھے

کبھی چپکے سے نام لیتا ہے

پھر مری خواب گاہ میں جیسے

ایک آہٹ سنائی دیتی ہے

پھر دھندلکوں میں مسکراتی ہوئی

کوئی صورت دکھائی دیتی ہے

خواب ہی خواب یہ کہانی ہے

میں نے دیکھی ہیں جس کے سائے میں

نیم وا بے خیال آنکھوں سے

زندگی کی حسین تصویریں

اب بھی اکثر یہ سوچتا ہوں میں

پھول کوئی چمن میں کھل جاتا

تو اگر میری ہم سفر ہوتی

زندگی کو نشان مل جاتا

شب کی تنہائیوں میں جانے کیوں

مجھ کو اکثر خیال آتا ہے

کون ہے اب مرے تعاقب میں

تو نہیں ہے یہ میرا سایہ ہے