Poetry

Poet
Meter
  1. کوئل (سرور جہاں آبادی)سرور جہاں آبادی
  2. گنگاسرور جہاں آبادی
  3. ستیسرور جہاں آبادی
  4. گلزار وطنسرور جہاں آبادی
  5. جمناسرور جہاں آبادی
  6. مرغابیسرور جہاں آبادی
  7. پدمنیسرور جہاں آبادی
  8. بلبل و پروانہسرور جہاں آبادی
  9. بھنورے کی بے قراریسرور جہاں آبادی
  10. آنکھ میں تیری شکل ہے دل میں ترا جمال ہےکس کو یہ فرصت خیال ہجر ہے یا وصال ہےVahshi Kanpuri
  11. اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہےحسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہےVahshi Kanpuri
  12. بوئے گل باغ میں برہم نظر آتی ہے مجھےفصل گل صورت شبنم نظر آتی ہے مجھےVahshi Kanpuri
  13. جب ہستیٔ کونین ترے غم میں مٹا دیہر پردۂ ہستی سے مجھے تو نے صدا دیVahshi Kanpuri
  14. حجاب ظاہر و باطن بھی درمیاں میں نہیںاب امتیاز کوئی میرے جسم و جاں میں نہیںVahshi Kanpuri
  15. در پردۂ بہار جو وہ نغمہ خواں نہ ہوبلبل سے نالہ گل سے تبسم عیاں نہ ہوVahshi Kanpuri
  16. رفتہ رفتہ جذب الفت میں کمال آ ہی گیاہجر کے پردے سے پیغام وصال آ ہی گیاVahshi Kanpuri
  17. زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہےذرا پرواز مشت خاک تو دیکھو کہاں تک ہےVahshi Kanpuri
  18. زندگی کے ہر نفس کو جان جاں سمجھا تھا میںچند لمحوں کو حیات جاوداں سمجھا تھا میںVahshi Kanpuri
  19. سجدہ پیر مغاں حاصل عرفاں نکلاجس کو ہم کفر سمجھتے تھے وہ ایماں نکلاVahshi Kanpuri
  20. عشق میں زیست کے آثار کہاںدشت میں سایۂ دیوار کہاںVahshi Kanpuri
  21. کوئی ذرہ جو دل کی خاک کا برباد ہوتا ہےجہان عشق میں شور مبارک باد ہوتا ہےVahshi Kanpuri
  22. کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرےخدا کسی کو نہ آب آشنائے راز کرےVahshi Kanpuri
  23. ہوش و خرد کا راہ جنوں میں گزر نہیںیاں با خبر وہ ہے جسے اپنی خبر نہیںVahshi Kanpuri
  24. یوں ترنم ریز ہے ہر پردہ دل کے ساز کاہر نفس پر مجھ کو دھوکا ہے تری آواز کاVahshi Kanpuri
  25. شکست ساغر دل کی صدائیں سن رہا ہوں میںذرا پوچھو تو ساقی سے کہ پیمانوں پہ کیا گزریVahshi Kanpuri
  26. گھٹائیں اودی اودی میکدہ بر دوش فصل گلنہ جانے لغزش توبہ سے ایمانوں پہ کیا گزریVahshi Kanpuri
  27. آؤ ایک رات کہ پہن لوں تمہیںاپنے تن پر لباس کی مانندVarsha Gorchhia
  28. آؤ نہ کسی دنیمنا کنارےVarsha Gorchhia
  29. تمام خوابوں کی آنکھیںادھورے فسانے کے آخری گیت کوVarsha Gorchhia
  30. تیرے لمس کومیری انگلیاں نگل گئیVarsha Gorchhia
  31. جانتے ہو تممجھے چوڑیاں پسند ہیںVarsha Gorchhia
  32. خیال کچھ یوں بلکھتے ہیں سینہ میںجیسے گناہ پگھلتے ہوںVarsha Gorchhia
  33. سنکری سی اوس گلی میںدونوں طرف ہزاروں جذبات کیVarsha Gorchhia
  34. سوئیاں کھانے کامن کرتا ہےVarsha Gorchhia
  35. کس دھن میں رہتی ہو تمالجھے ہوئے بالوں کی گرہیںVarsha Gorchhia
  36. گنگا کی چھاتی پرسر رکھ کر نئیVarsha Gorchhia
  37. یاد رہےچاہتوں کا یہ شہرVarsha Gorchhia
  38. سنو نہکہیں سے کوئیVarsha Gorchhia
  39. باتوں کا مرتبان اچانک چھوٹ گیا ہے ہاتھوں سےباتوں کے نازک جسم اب لفظوں کی کرچوں سےVarsha Gorchhia
  40. تمہاری زباں سے گراایک شوخ لفظVarsha Gorchhia
  41. سکوں بھریکسی خاموش جھیل کے کنارےVarsha Gorchhia
  42. میں نظمیں نہیں کہتیمیں دعائیں لکھتی ہوںVarsha Gorchhia
  43. یہ بھی رات گزر رہی ہےکمرے کی بکھری چیزیں سمیٹتے ہوئےVarsha Gorchhia
  44. اس نےاپنی سوندھی سوندھیYameen
  45. پھول تھے اور قہر خوشبو کاخوف کے گھنگھرو چھن سے بجنے لگےYameen
  46. چڑیا نے توسوچی تھیYameen
  47. دنیا کی مٹیسونا اگلتی ہےYameen
  48. دو طرح کے ہیں بدندو طرح کے پیرہنYameen
  49. زندگیڈرامے سے نہیں بنتیYameen
  50. وہ الٹی شلوار پہن کرلوگوں سے یہ کہتا ہےYameen