Poetry
Poet
Meter
- کوئل (سرور جہاں آبادی)سرور جہاں آبادی
- گنگاسرور جہاں آبادی
- ستیسرور جہاں آبادی
- گلزار وطنسرور جہاں آبادی
- جمناسرور جہاں آبادی
- مرغابیسرور جہاں آبادی
- پدمنیسرور جہاں آبادی
- بلبل و پروانہسرور جہاں آبادی
- بھنورے کی بے قراریسرور جہاں آبادی
- آنکھ میں تیری شکل ہے دل میں ترا جمال ہےکس کو یہ فرصت خیال ہجر ہے یا وصال ہےVahshi Kanpuri
- اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہےحسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہےVahshi Kanpuri
- بوئے گل باغ میں برہم نظر آتی ہے مجھےفصل گل صورت شبنم نظر آتی ہے مجھےVahshi Kanpuri
- جب ہستیٔ کونین ترے غم میں مٹا دیہر پردۂ ہستی سے مجھے تو نے صدا دیVahshi Kanpuri
- حجاب ظاہر و باطن بھی درمیاں میں نہیںاب امتیاز کوئی میرے جسم و جاں میں نہیںVahshi Kanpuri
- در پردۂ بہار جو وہ نغمہ خواں نہ ہوبلبل سے نالہ گل سے تبسم عیاں نہ ہوVahshi Kanpuri
- رفتہ رفتہ جذب الفت میں کمال آ ہی گیاہجر کے پردے سے پیغام وصال آ ہی گیاVahshi Kanpuri
- زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہےذرا پرواز مشت خاک تو دیکھو کہاں تک ہےVahshi Kanpuri
- زندگی کے ہر نفس کو جان جاں سمجھا تھا میںچند لمحوں کو حیات جاوداں سمجھا تھا میںVahshi Kanpuri
- سجدہ پیر مغاں حاصل عرفاں نکلاجس کو ہم کفر سمجھتے تھے وہ ایماں نکلاVahshi Kanpuri
- عشق میں زیست کے آثار کہاںدشت میں سایۂ دیوار کہاںVahshi Kanpuri
- کوئی ذرہ جو دل کی خاک کا برباد ہوتا ہےجہان عشق میں شور مبارک باد ہوتا ہےVahshi Kanpuri
- کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرےخدا کسی کو نہ آب آشنائے راز کرےVahshi Kanpuri
- ہوش و خرد کا راہ جنوں میں گزر نہیںیاں با خبر وہ ہے جسے اپنی خبر نہیںVahshi Kanpuri
- یوں ترنم ریز ہے ہر پردہ دل کے ساز کاہر نفس پر مجھ کو دھوکا ہے تری آواز کاVahshi Kanpuri
- شکست ساغر دل کی صدائیں سن رہا ہوں میںذرا پوچھو تو ساقی سے کہ پیمانوں پہ کیا گزریVahshi Kanpuri
- گھٹائیں اودی اودی میکدہ بر دوش فصل گلنہ جانے لغزش توبہ سے ایمانوں پہ کیا گزریVahshi Kanpuri
- آؤ ایک رات کہ پہن لوں تمہیںاپنے تن پر لباس کی مانندVarsha Gorchhia
- آؤ نہ کسی دنیمنا کنارےVarsha Gorchhia
- تمام خوابوں کی آنکھیںادھورے فسانے کے آخری گیت کوVarsha Gorchhia
- تیرے لمس کومیری انگلیاں نگل گئیVarsha Gorchhia
- جانتے ہو تممجھے چوڑیاں پسند ہیںVarsha Gorchhia
- خیال کچھ یوں بلکھتے ہیں سینہ میںجیسے گناہ پگھلتے ہوںVarsha Gorchhia
- سنکری سی اوس گلی میںدونوں طرف ہزاروں جذبات کیVarsha Gorchhia
- سوئیاں کھانے کامن کرتا ہےVarsha Gorchhia
- کس دھن میں رہتی ہو تمالجھے ہوئے بالوں کی گرہیںVarsha Gorchhia
- گنگا کی چھاتی پرسر رکھ کر نئیVarsha Gorchhia
- یاد رہےچاہتوں کا یہ شہرVarsha Gorchhia
- سنو نہکہیں سے کوئیVarsha Gorchhia
- باتوں کا مرتبان اچانک چھوٹ گیا ہے ہاتھوں سےباتوں کے نازک جسم اب لفظوں کی کرچوں سےVarsha Gorchhia
- تمہاری زباں سے گراایک شوخ لفظVarsha Gorchhia
- سکوں بھریکسی خاموش جھیل کے کنارےVarsha Gorchhia
- میں نظمیں نہیں کہتیمیں دعائیں لکھتی ہوںVarsha Gorchhia
- یہ بھی رات گزر رہی ہےکمرے کی بکھری چیزیں سمیٹتے ہوئےVarsha Gorchhia
- اس نےاپنی سوندھی سوندھیYameen
- پھول تھے اور قہر خوشبو کاخوف کے گھنگھرو چھن سے بجنے لگےYameen
- چڑیا نے توسوچی تھیYameen
- دنیا کی مٹیسونا اگلتی ہےYameen
- دو طرح کے ہیں بدندو طرح کے پیرہنYameen
- زندگیڈرامے سے نہیں بنتیYameen
- وہ الٹی شلوار پہن کرلوگوں سے یہ کہتا ہےYameen