پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوا

SabeenSaif

پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوا

بت کوئی میرا خدا کیسے ہوا

آدمی بے حد برا تھا وہ مگر

پھر اچانک وہ بھلا کیسے ہوا

جس دئے کی آبرو تھی روشنی

وہ طرف دار ہوا کیسے ہوا

میں جسے سمجھی نہ تھی وہ عشق تھا

ہاں مگر پھر وہ سزا کیسے ہوا

آدمی سے پوچھتا ہے آدمی

آدمی خود سے جدا کیسے ہوا

مجھ کو آیا تھا منانے کے لیے

کیا خبر مجھ سے خفا کیسے ہوا

سوچتی رہتی ہوں میں اکثر سبینؔ

جو نہیں سوچا گیا کیسے ہوا