آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں

SabeenSaif

آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں

میرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیں

پاس آ کر بھی اگر پاس نہ آئے کوئی

ہم شب وصل کی تنہائی میں مر جاتے ہیں

کیا عجب دور پر آشوب ہے جس میں اے دوست

لوگ دستار بچاتے ہیں تو سر جاتے ہیں

جب پسینے کا خریدار نہ ہو تب مزدور

شام کو نظریں جھکائے ہوئے گھر جاتے ہیں

زخمی لفظوں پہ بھی ہنس ہنس کے اگر داد ملے

ہم سے شاعر تو اسی وقت ہی مر جاتے ہیں

اپنے محبوب سے ملنے کے لئے روز سبینؔ

تم کو معلوم ہے ہم چاند نگر جاتے ہیں