بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی

SabeenSaif

بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی

گفتگو آگے بڑھائیں تو سہی

جان جائیں گے کھرا کھوٹا ہے کیا

آپ مجھ کو آزمائیں تو سہی

انگلیاں اٹھیں گی چاروں آپ پر

آپ اک انگلی اٹھائیں تو سہی

بندہ پرور ناامیدی کفر ہے

اک دیا پھر سے جلائیں تو سہی

چاند تارے منتظر ہیں آپ کے

آسماں تک آپ جائیں تو سہی

وصل کر دے گا خزاں کو فصل گل

پھول بالوں میں لگائیں تو سہی

دیکھیے سنیے ارے جانے بھی دیں

آپ میرے ساتھ آئیں تو سہی

خود کو رکھ کر بھول بیٹھی ہوں کہیں

میں کہاں ہوں کچھ بتائیں تو سہی

آپ تو بس گھر بنا کر رہ گئے

آپ اس گھر کو بسائیں تو سہی

چٹکیوں میں بھول جاؤں گی انہیں

اب مجھے وہ یاد آئیں تو سہی

نیند آنکھوں سے خفا ہو جائے گی

خواب پلکوں پر سجائیں تو سہی

جان لے لوں گی قسم اللہ کی

بھول کر مجھ کو بھلائیں تو سہی

آزمانے کے لئے قسمت سبینؔ

دل کو داؤ پر لگائیں تو سہی