روشنی بن کر بکھرنے کے لیے
SabeenSaifروشنی بن کر بکھرنے کے لیے
زندگی ہے عشق کرنے کے لیے
انگلیوں کو ہم قلم کرتے رہے
چاہتوں میں رنگ بھرنے کے لیے
توڑ ڈالا ہے خود اپنے آپ کو
ایک گھر تعمیر کرنے کے لیے
آئنے میں روبرو تھا اجنبی
آج جب سوچا سنورنے کے لیے
میں وظیفہ پڑھ رہی ہوں رات دن
آپ کے دل میں اترنے کے لیے
جانتی ہوں اک بہانہ چاہیے
آپ کو مجھ سے مکرنے کے لیے