وہ دل کشی جو ترے حسن اور جمال میں ہے
Naeem Sabaوہ دل کشی جو ترے حسن اور جمال میں ہے
اسی کا عکس فروزاں مرے خیال میں ہے
خمار تشنہ لبی موسم جنوں خیزی
کبھی یہ ہجر میں ہے اور کبھی وصال میں ہے
کبھی سحر میں کبھی شام میں ہے جلوہ نما
وہ روشنی جو ترے حسن بے مثال میں ہے
وہ نغمگی جو درخشاں ہے تیرے جلوؤں میں
نہ روز و شب میں فروزاں نہ ماہ و سال میں ہے
سواد شام میں طاری ہے سحر اور فسوں
اسی کا رنگ ترے حسن لا زوال میں ہے
ہنوز جلوہ نما زندگی میں ہو نہ سکی
وہ تمکنت جو ترے قہر اور جلال میں ہے
شکست و ریخت سے ملتی ہے زندگی کو نمود
مرے وجود کا عنصر ترے کمال میں ہے
کسی جہت میں رواں ہے یہ کاروان حیات
بس ایک رخت سفر ہے جو ماہ و سال میں ہے
سحر قریب ہے بجھتی ہیں شب کی قندیلیں
فلک پہ ایک ستارا ہے سو زوال میں ہے
ترے جمال سے راہ وصال تک ہر ایک
جو مرحلہ ہے مری دسترس کے جال میں ہے
اب اور مجھ کو رلائے گی کیا شب ہجراں
مرا نصیب ترے کوچۂ ملال میں ہے
بہت کشش ہے تری سحر کار آنکھوں میں
عجیب حسن ادا تیرے خد و خال میں ہے
جنوں کی راہ میں ہر سمت ہے فریب نظر
چلوں جنوب کی جانب قدم شمال میں ہے
جواب اس نے دیا ہے اے نامہ بر لیکن
وہ بات اب بھی نہیں جو مرے سوال میں ہے
صباؔ عجیب سا جادو ہے اس کی آنکھوں میں
نہ سامری میں ہے نرگس میں نہ غزال میں ہے