عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتا

SabeenSaif

عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتا

ہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتا

آپ اس بار بھی دیوار میں چنوا دیں مجھے

اب کے بھی سر یہ جھکایا تو نہیں جا سکتا

روز مرنے کا ہنر جس نے سکھایا ہے مجھے

اس کا احسان بھلایا تو نہیں جا سکتا

چشم بینا ہے مگر عقل سے نا بینا ہیں

آئنہ ان کو دکھایا تو نہیں جا سکتا

تم نے اک عمر مرے دل پہ حکومت کی ہے

تم کو پل بھر میں بھلایا تو نہیں جا سکتا

جن کو الفاظ سے ڈسنے کا ہنر آتا ہے

ہاتھ اب ان سے ملایا تو نہیں جا سکتا

جس قدر سنگ زنی چاہیے کر لیں مجھ پر

سنگ زادی کو رلایا تو نہیں جا سکتا

ہوں مکیں جن میں کئی سال سے زندہ لاشیں

ان مکانوں کو سجایا تو نہیں جا سکتا

جس کی خاموشی میں آسیب سکوں کرتے ہوں

ایسا ویرانہ بسایا تو نہیں جا سکتا

تو بت عشق نہیں تو تو خدا ہے میرا

اب تجھے ہاتھ لگایا تو نہیں جا سکتا