بہت قریب تھا پر مہرباں نہ تھا میرا

SabeenSaif

بہت قریب تھا پر مہرباں نہ تھا میرا

بھری بہار میں اک آشیاں نہ تھا میرا

لبادہ روح کا چھلنی تھا جابجا لیکن

مرے قریب کوئی مہرباں نہ تھا میرا

لہو میں بہتا ہے لیکن یہ احتیاط جنوں

کہ راز دل کا نظر سے عیاں نہ تھا میرا

میں خوش گماں جسے جاگیر سمجھے بیٹھی تھی

کہ دل پہ اس کے کہیں بھی نشاں نہ تھا میرا

وہ دشت ذات میں برگد کا پیڑ تھا لیکن

جھلستی دھوپ میں وہ سائباں نہ تھا میرا

یہ اور بات مرے حال سے تھا ناواقف

میں کیسے کہہ دوں کہ وہ راز داں نہ تھا میرا

بنا تھا ترک تعلق کا جو سبب اے ثبینؔ

قسم خدا کی وہ ہرگز بیاں نہ تھا میرا