خطۂ ارض پہ ایسی بھی جگہ ہے کہ جہاں
Naeem Sabaخطۂ ارض پہ ایسی بھی جگہ ہے کہ جہاں
شب میں تاریک اجالے کا گماں ہوتا ہے
ایسے منظر کو میں دن یا شب دیجور کہوں
عقل حیراں ہے کہ ایسا بھی کہاں ہوتا ہے
گردش شمس و قمر کا ہے عجب سر نہاں
نیم شب دور افق سے کہیں کرنیں پھوٹیں
ایسی ترتیب میں کیا مصلحت یزداں ہے
عرش اور فرش جہاں صورت ہنگام ملیں
اس کو تقویم کی میعاد سے منسوب کریں
یا کہ سورج کا زمیں سے ہے بہت دور سفر
اپنے محور پہ گزرنے میں مہ و سال یہاں
نیم شب مہر نکلتا ہے بہ انداز دگر
لوگ کہتے ہیں یہ معمول شب و روز کا ہے
کچھ یہ کہتے ہیں کہ موسم کا ہے انداز نیا
گردش ارض و سماں کا ہے یہ مربوط نظام
یہ حقیقت میں کرشمہ ہے خداوندی کا