یہ تیرے ہجر کا موسم سراب جیسا ہے
Naeem Sabaیہ تیرے ہجر کا موسم سراب جیسا ہے
ہر ایک لمحہ مسلسل عذاب جیسا ہے
لبوں پہ اس کے تبسم کے پھول کھلتے ہیں
وہ ایک چہرہ معطر گلاب جیسا ہے
کسی نے جام اٹھایا کسی کی زلف کھلی
ہوا کے دوش پہ موسم سحاب جیسا ہے
بہ نام لالہ رخاں کچھ تو زہر غم پی لیں
ترے لبوں میں ہلاہل شراب جیسا ہے
وہ میرے پاس ہے لیکن یہ حال ہے اپنا
سکون دل کا بھی اب اضطراب جیسا ہے
قرار جاں بھی وہی اضطراب جاں بھی وہی
وہ ایک شخص مجسم شباب جیسا ہے
خلش ہے دل میں کسک سی ہے بیکلی بھی ہے
صباؔ یہ ہوش کا عالم بھی خواب جیسا ہے