چراغوں میں اندھیرا ہے اندھیرے میں اجالے ہیں
Badr Wastiچراغوں میں اندھیرا ہے اندھیرے میں اجالے ہیں
ہمارے شہر میں کالی ہوا نے پر نکالے ہیں
ہمیں شب کاٹنے کا فن وراثت میں ملا ہم نے
کبھی پتھر پکائے ہیں کبھی سپنے ابالے ہیں
دلوں میں خوف ہے اس کا نظر ہے اس کی رحمت پر
گناہ گاروں میں شامل ہیں مگر اللہ والے ہیں
لڑے تھے ساتھ مل کر ہم چراغوں کے لئے لیکن
ہمارے گھر اندھیرے ہیں تمہارے گھر اجالے ہیں
تمہاری یاد سے اچھا نہیں ہوتا کوئی عالم
میسر جن کو ہو جائے بڑی تقدیر والے ہیں
محبت آخری حل ہے ہمارے سب مسائل کا
مگر ہم نے تو نفرت کے سپنولے دل میں پالے ہیں
بھڑکتی آگ تو دو چار دن میں بجھ گئی تھی بدرؔ
ابھی تک شہر کے منظر نہ جانے کیوں دھوانلے ہیں