راہرو کو دور سے منزل سمجھ بیٹھے تھے ہم

Balbir Rathi

راہرو کو دور سے منزل سمجھ بیٹھے تھے ہم

بحر غم میں موج کو ساحل سمجھ بیٹھے تھے ہم

اب تو ہر پیچیدگی اپنی سمجھ میں آ گئی

ورنہ ہر آسان کو مشکل سمجھ بیٹھے تھے ہم

اس میں رہبر کی نہیں تھی بلکہ اپنی بھول تھی

یعنی اک نادان کو عاقل سمجھ بیٹھے تھے ہم

ہر نئی خواہش کو سمجھے تھے مقدس تشنگی

ہر دھڑکتی چیز کو کیوں دل سمجھ بیٹھے تھے ہم