ایسے ہی دن تھے کچھ ایسی شام تھی

Ejaz Obaid

ایسے ہی دن تھے کچھ ایسی شام تھی

وہ مگر کچھ اور ہنستی شام تھی

بہہ رہا تھا سرخ سورج کا جہاز

مانجھیوں کے گیت گاتی شام تھی

صبح سے تھیں ٹھنڈی ٹھنڈی بارشیں

پھر بھی وہ کیسی سلگتی شام تھی

گرم الاؤ میں سلگتی سردیاں

دھیمے دھیمے ہیر گاتی شام تھی

گھیر لیتے تھے طلائی دائرے

پانیوں میں بہتی بہتی شام تھی

عرش پر ہلتے ہوئے دو ہاتھ تھے

ساحلوں کی بھیگی بھیگی شام تھی

کتنی راتوں کو ہمیں یاد آئے گی

اپنی اکلوتی سہانی شام تھی

شاخ سے ہر سرخ پتی گر گئی

پھر وہی بوجھل سی پیلی شام تھی

چاندی چاندی رات کو یاد آئے گی

سونا سونا سی رنگیلی شام تھی

سولہویں زینے پہ سورج تھا عبیدؔ

جنوری کی اک سلونی شام تھی