دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے

Ejaz Obaid

دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے

ترا شکار ہوں اچھی طرح سے جان مجھے

ہوا نے ریت کی صورت زمیں پہ لکھ دی ہے

دکھائی دیتی ہے پتھر کی داستان مجھے

اک آسماں نے زمیں پر گرا دیا لیکن

زمیں نے پھر سے بنا ڈالا آسمان مجھے

میں اس ہوا کا نہیں پانیوں کا قیدی ہوں

نہ جانے کیوں لئے پھرتا ہے بادبان مجھے

زمیں سے صرف جزیرہ دکھائی دیتا ہے

کوئی نہ جان سکا آج تک چٹان مجھے

نہ جانے تیر کی مانند کیسے چبھنے لگا

وہ شخص لگتا تھا ٹوٹی ہوئی کمان مجھے