ذرہ ذرہ پگھلنے والا تھا

Balbir Rathi

ذرہ ذرہ پگھلنے والا تھا

سارا منظر بدلنے والا تھا

صبر ہم سے نہ ہو سکا ورنہ

اپنی ضد سے وہ ٹلنے والا تھا

ضبط کرتے تو ایک اک ذرہ

راز اپنا اگلنے والا تھا

تم اندھیروں سے ڈر گئے یوں ہی

ورنہ سورج نکلنے والا تھا

تم نے اچھا کیا جو تھام لیا

ورنہ میں کب سنبھلنے والا تھا

جو رہا اک حریف کی مانند

وہ مرے ساتھ چلنے والا تھا

ذہن میں وہ جو عکس تھا کب سے

لاکھ شکلوں میں ڈھلنے والا تھا