اقرار کسی دن ہے تو انکار کسی دن

Badr Wasti

اقرار کسی دن ہے تو انکار کسی دن

ہو جائے گی اب آپ سے تکرار کسی دن

چاہا کبھی سوچا کبھی تصویر بنائی

چھوڑا نہ تری یاد نے بے کار کسی دن

پلکوں پہ ستارے لیے راہوں میں کھڑے ہیں

فرصت ہو تو آ جائیے سرکار کسی دن

دنیا میں سدا چلتی ہے چاہت کی حکومت

آ جاؤ منا لیں گے ہم اتوار کسی دن

آیا ہے اکیلا تجھے جانا ہے اکیلا

بس دیکھتے رہ جائیں گے سب یار کسی دن

دولت کے یہ انبار ترا ساتھ نہ دیں گے

گر جائے گی نادان یہ دیوار کسی دن

اچھی نہیں لگتی ہمیں عادت یہ تری بدرؔ

ہر بار کبھی اور تو ہر بار کسی دن