غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیں

Ejaz Obaid

غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیں

اور چارہ نہیں کہ تم سے کہیں

آج ہم بے کراں سمندر ہیں

تم وہ دریا نہیں کہ تم سے کہیں

یوں تو مرنے سے چین ملتا ہے

یہ ارادہ نہیں کہ تم سے کہیں

نیلی آنکھوں کی چاندنی کے لیے

اب اندھیرا نہیں کہ تم سے کہیں

تم اکیلے نہیں رہے تو کیا

ہم بھی تنہا نہیں کہ تم سے کہیں

اب نہ وہ غم کہ اپنے ہاتھ عبیدؔ

شبنم آسا نہیں کہ تم سے کہیں