برا ہو کر بھی وہ اچھا بہت ہے
Badr Wastiبرا ہو کر بھی وہ اچھا بہت ہے
وہ جیسا ہے نہیں بنتا بہت ہے
نمک تو کم نہیں ہے روز و شب میں
سواد زندگی پھیکا بہت ہے
فریب سادگی ہے یا شرارت
میں یہ سمجھا کہ وہ میرا بہت ہے
تجھے سوچا کیا شب بھر سنوارا
نہیں ایسا نہیں ویسا بہت ہے
اسی سے بات کرنا ہے کہ جس نے
ہمیں سمجھا نہیں پوچھا بہت ہے
ہمیں کچھ دیر میں منزل ملے گی
ہمارا راستہ سیدھا بہت ہے
یہ بندہ کون ہے کچھ بدرؔ جیسا
وہی جو بھیڑ میں تنہا بہت ہے