رات کیا ڈھل گئی سمندر میں
Balbir Rathiرات کیا ڈھل گئی سمندر میں
گھل گئی تیرگی سمندر میں
ایک سرخی پہاڑ سے ابھری
پھر اترتی گئی سمندر میں
اک سفینہ کہیں پہ ڈوبا تھا
کتنی ہلچل ہوئی سمندر میں
خود سمندر کی نیند ٹوٹ گئی
رات کچھ یوں ڈھلی سمندر میں
غرق ہوتا گیا کوئی صحرا
دھول اڑتی گئی سمندر میں
کوئی طوفاں ضرور اٹھنا تھا
اپنی کشتی جو تھی سمندر میں