چاہا جن کو بھی زندگی کی طرح
Balbir Rathiچاہا جن کو بھی زندگی کی طرح
وہ ملے مجھ کو اجنبی کی طرح
مجھ کو الہام ہو گیا شاید
بات کرتا ہوں اک نبی کی طرح
جانے کتنے سوال ابھرے ہیں
جب بھی سوچا ہے فلسفی کی طرح
سارا منظر نکھرتا جاتا ہے
کون ہنستا ہے آپ ہی کی طرح
خوب چرچا ہے گو سویروں کا
رات پھر بھی ہے رات ہی کی طرح
وقت کی بات ہے کہ اب تم بھی
ہم سے ملتے ہو اجنبی کی طرح
یہ درندوں کا شہر ہے اس میں
کون ملتا ہے آدمی کی طرح