احساسات کی بستی میں جب ہر جانب اک سناٹا تھا

Balbir Rathi

احساسات کی بستی میں جب ہر جانب اک سناٹا تھا

میں آوازوں کے جنگل میں تب جانے کیا ڈھونڈ رہا تھا

جن راہوں سے اپنے دل کا ہر قصہ منسوب رہا ہے

اب تو یہ بھی یاد نہیں ہے ان راہوں کا قصہ کیا تھا

آج اسی کے افسانوں کا محفل محفل چرچا ہوگا

کل چوراہے پر تنہا جو شخص بہت خاموش کھڑا تھا

یوں جیون رس کب دیتا ہے پھر سے اپنے زخم کریدو

تم نے آخر کیا سوچا تھا درد سے کیوں سنیاس لیا تھا

ایسی کوئی بات نہیں تھی ان راہوں سے لوٹ بھی آتے

لیکن ان راہوں پہ کسی نے کچھ دن اپنا ساتھ دیا تھا

اس نگری میں لگ بھگ سب نے ایک طرح سے چوٹیں کھائیں

لیکن زخموں کو سہلانے کا سب کا اندازہ جدا تھا

تم ان بیگانی راہوں میں آخر کس کو ڈھونڈ رہے ہو

وہ تو کب کا لوٹ چکا ہے کل جو تمہارے ساتھ چلا تھا