کس کو فرصت کون پڑھے گا چہرے جیسا سچا سچ

Badr Wasti

کس کو فرصت کون پڑھے گا چہرے جیسا سچا سچ

روز عدالت میں چلتا ہے کھوٹا سکہ جھوٹا سچ

اونچے خوابوں کے تاجر سے کوئی نہیں یہ پوچھنے والا

کون جوانوں کے چہروں پر لکھ دیتا ہے پیلا سچ

ہم سے کیا پوچھو گے صاحب شہر کبھی کا ٹوٹ چکا

شام کی میلی چادر پر ہے ٹکڑے ٹکڑے پھیلا سچ

ان آنکھوں میں مستقبل کے خواب بھلا کیا اتریں گے

جن آنکھوں نے دیکھ لیا ہے وقت سے پہلے نیلا سچ

اس کے بیٹا بیٹی کالج اسی طرف سے جاتے ہیں

رات کو جس نے بیچ سڑک پر پھینکا ہے اک گیلا سچ

سب نے ہم کو خوشحالی کے خواب دکھا کر چھوڑ دیا

گلیوں گلیوں گھوم رہا ہے دھول میں لپٹا ننگا سچ

بدرؔ تمہاری راہ میں آ کر دنیا جال بچھائے گی

جو کہتے ہو کہتے رہنا چھوڑ نہ دینا لکھنا سچ