ابھی تک تلخیٔ مے میں کمی معلوم ہوتی ہے
Balbir Rathiابھی تک تلخیٔ مے میں کمی معلوم ہوتی ہے
لبوں پر اک بلا کی تشنگی معلوم ہوتی ہے
تصور میں تمہاری مسکراہٹ رچ گئی شاید
مجھے ہر شے مسرت سے بھری معلوم ہوتی ہے
سنا ہے زندگی میں کشمکش سے لوگ ڈرتے ہیں
مجھے تو کشمکش ہی زندگی معلوم ہوتی ہے
مری معصومیت تو دیکھ لو فرط محبت میں
تمہاری بے رخی بھی دل لگی معلوم ہوتی ہے
خلوص دل سے کیا جذبہ نمایاں کر دیا تم نے
کہ ہر صورت مجھے کچھ اجنبی معلوم ہوتی ہے
کسی کی دوستی میں دشمنی کی بو تو کیا آئے
مجھے تو دشمنی بھی دوستی معلوم ہوتی ہے