دھانی سرمئی سبز گلابی جیسے ماں کا آنچل شام
Badr Wastiدھانی سرمئی سبز گلابی جیسے ماں کا آنچل شام
کیسے کیسے رنگ دکھائے روز لبالب چھاگل شام
چرواہے کو گھر پہنچائے پہرے دار سے گھر چھڑوائے
آتے جاتے چھیڑتی جائے دروازے کی سانکل شام
سورج کے پاپوں کی گٹھری سر پر لادے تھکی تھکی سی
خاموشی سے منہ لٹکائے چل دیتی ہے پیدل شام
بے حس دنیا داروں کو ہو دنیا کی ہر چیز مبارک
غم زادوں کا سرمایا ہیں آنسو آہیں بوتل شام
سورج کے جاتے ہی اپنے رنگ پہ آ جاتی ہے دنیا
جانے بوجھے چپ رہتی ہے شب کے موڑ پہ کومل شام
سانسوں کی پر شور ڈگر پہ رقص کرے گا سناٹا
چپکے سے جس روز اچانک چھنکا دے گی پائل شام
بدرؔ تمہیں کیا حال سنائیں اتنا ہی بس کافی ہے
تنہائی میں کٹ جاتی ہے جیسے تیسے مخمل شام