خول سا اوڑھے ہوئے لگتے ہیں لوگ
Balbir Rathiخول سا اوڑھے ہوئے لگتے ہیں لوگ
بات کیا ہے اتنے چپ کیسے ہیں لوگ
بند کمروں سے ابھی نکلے ہیں لوگ
اور ہی انداز سے ملتے ہیں لوگ
جس کو دیکھو ہے وہی جھلسا ہوا
کس دہکتی آگ سے نکلے ہیں لوگ
کون کسی کی فکر کرتا ہے یہاں
اپنے اپنے جال میں الجھے ہیں لوگ
روشنی کی کیوں نہیں کرتے تلاش
کیوں اندھیرا بانٹتے پھرتے ہیں لوگ
منزلوں کا ذکر ہی بے سود ہے
گمرہی سے مطمئن لگتے ہیں لوگ
زہر پیتے ہیں مگر مرتے نہیں
کچھ نہ پوچھو کیسے کیا کرتے ہیں لوگ