ایسے گم سم وہ سوچتے کیا تھے

Balbir Rathi

ایسے گم سم وہ سوچتے کیا تھے

جانے یاروں کے فیصلے کیا تھے

ہم تو یوں ہی رکے رہے ورنہ

اپنے آگے وہ فاصلے کیا تھے

بوجھ دل کا اتارنا تھا ذرا

ورنہ تم سے ہمیں گلے کیا تھے

صحرا صحرا لئے پھرے ہم کو

وہ جنوں کے بھی سلسلے کیا تھے

دور تک تھی نہ گر کوئی منزل

پھر وہ اجلے نشان سے کیا تھے

ہم ہی تھے جو یقین کر بیٹھے

ورنہ ان کے وہ معجزے کیا تھے

سر پھرے تھے کہ مسخرے یارو

جو ہمیں یوں لئے پھرے کیا تھے