ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنا
Ejaz Obaidہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنا
مرے نصیب میں میرا زوال تھا کتنا
تو جنگلوں کی طرح آگ مجھ میں پھیل گئی
رگوں میں بہتا ہوا اشتعال تھا کتنا
تبھی تو جلتی چٹانوں پہ لا کے پھینک دیا
مرا وجود ہوا پر وبال تھا کتنا
سبھی پرندے مرے پاس آتے ڈرتے تھے
میں خشک پیڑ سہی بے مثال تھا کتنا
مگر ملا نہ کہیں ساتواں جواب اب تک
مجھے ستاتا ہوا اک سوال تھا کتنا