نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھے

Ejaz Obaid

نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھے

پھر آئے یاد کہ اس رہ گزر کے ساتھی تھے

کہوں بھی کیا مجھے پل بھر میں جو بکھیر گئے

ہوا کے جھونکے مری عمر بھر کے ساتھی تھے

ستارے ٹوٹ گئے اوس بھی بکھر سی گئی

یہی تھے جو مری شام و سحر کے ساتھی تھے

شفق کے ساتھ بہت دیر تک دکھائی دیئے

وہ سارے لوگ جو بس رات بھر کے ساتھی تھے

یہ کیسی ہجر کی شب وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے

جو چاند تارے مری چشم تر کے ساتھی تھے