وہ جب دے گا جو کچھ دے گا دے گا اپنے والوں کو
Badr Wastiوہ جب دے گا جو کچھ دے گا دے گا اپنے والوں کو
ویسے بھی کچھ ملتا کب ہے دھوپ میں تپنے والوں کو
دین دھرم محفوظ ہیں لیکن تصویروں جزدانوں میں
وقت پڑے تو لے آتے ہیں مالا جپنے والوں کو
خوابوں کی بارش تو سارے زخم ہرے کر دیتی ہے
نیند کہاں سے آئے گی پھر بھیگے سپنے والوں کو
اخباروں کی سرخی بننا سب کے بس کی بات نہیں
اونچا مول چکانا پڑتا ہے روز کے چھپنے والوں کو
جانے کیسے ایسے ویسے آگے بڑھتے جاتے ہیں
پاس سے جا کر کس نے دیکھا بدرؔ پنپنے والوں کو