کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے

Ejaz Obaid

کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہے

ہر اک میں ایک ہی مکھڑا دکھائی دیتا ہے

اسی شجر پہ شفق کا کرم ہے شاید آج

وہ اک شجر جو سنہرا دکھائی دیتا ہے

ادھر وہ دیکھو کہ آکاش کتنا دل کش ہے

جہاں وہ دھرتی سے ملتا دکھائی دیتا ہے

دکھائیں تم کو غروب آفتاب کا منظر

یہاں افق کا کنارہ دکھائی دیتا ہے

وہی تو ہے جو مری جستجو کی منزل ہے

کوئی بھی شخص جو مجھ سا دکھائی دیتا ہے