ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہے
Ejaz Obaidابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہے
یہ کس نے تم سے کہہ دیا کہ زندگی خراب ہے
نہ جانے آج ہم پہ پیاس کا یہ کیسا قہر ہے
کہ جس طرف بھی دیکھیے سراب ہی سراب ہے
ہر ایک راہ میں مٹے مۓ نقوش آرزو
ہر اک طرف تھکی تھکی سی رہ گزار خواب ہے
کبھی نہ دل کے ساگروں میں تم اتر سکے مگر
مرے لیے مرا وجود اک کھلی کتاب ہے
ہر ایک سمت ریت ریت پر ہوا کے نقش ہیں
یہاں تو دشت دشت میں ہواؤں کا عذاب ہے