حسرتیں خاموش ہیں اجڑے مزاروں کی طرح
Balbir Rathiحسرتیں خاموش ہیں اجڑے مزاروں کی طرح
ولولے روشن ہیں کیوں پھر بھی شراروں کی طرح
کچھ نہ کچھ تو ہے دل وحشی تری آواز میں
ورنہ وہ کب دیکھتے تھے بے قراروں کی طرح
کہکشاؤں پر بہکتے جا رہے ہیں آج ہم
مستیاں بکھری ہیں راہوں میں ستاروں کی طرح
یہ کسی کی زلف بکھری ہے کہ بادل چھائے ہیں
برق لہراتی ہے آنچل کے کناروں کی طرح
رفتہ رفتہ اک قیامت بن گیا ان کا شباب
وہ نکھرتے ہی گئے رنگیں نظاروں کی طرح
جام غم پیتے بہکتے لڑکھڑاتے جھومتے
زندگی کا لطف لیں گے بادہ خواروں کی طرح