کسی بھی خواب میں جب دل کشی باقی نہیں رہتی
Balbir Rathiکسی بھی خواب میں جب دل کشی باقی نہیں رہتی
تو پھر جذبات میں وہ بات ہی باقی نہیں رہتی
گزر تو ہو ہی جاتی ہے سنبھل کر چلنے والوں کی
مگر پھر زندگی میں زندگی باقی نہیں رہتی
تمہیں اچھی نہیں لگتیں مری بے باکیاں لیکن
تکلف میں بھی اکثر دوستی باقی نہیں رہتی
جوانی میں بھلا کیسے کریں ہم ہوش کی باتیں
کہ ایسی بے خودی میں آگہی باقی نہیں رہتی
ہٹاؤ ساغر و مینا نہیں مے کی طلب مجھ کو
حسیں آنکھوں سے پی کر تشنگی باقی نہیں رہتی