عطا کر دی کسی نے وہ بلا کی تشنگی مجھ کو

Balbir Rathi

عطا کر دی کسی نے وہ بلا کی تشنگی مجھ کو

نہ راس آئے گی شاید زندگی بھر زندگی مجھ کو

مری یہ بے بسی تو خیر کچھ ایسی نہیں ہمدم

مگر جینے نہیں دے گی تری بے چارگی مجھ کو

بھلا میں رتبۂ دیوانگی کا مستحق کب تھا

کسی کے پیار نے دے دی یوںہی دیوانگی مجھ کو

کوئی منزل بھی ہو وہ میری منزل ہو نہیں سکتی

ازل سے ہی ملی ہے بے سبب آوارگی مجھ کو

مجھے تو زندگی میں بارہا محسوس ہوتا ہے

مرے معصوم خوابوں نے ہی دی ہے نغمگی مجھ کو