پھر فضا میں کوئی زہریلا دھواں بھر جائے گا
Balbir Rathiپھر فضا میں کوئی زہریلا دھواں بھر جائے گا
پھر کسی دن اپنے اندر کچھ نہ کچھ مر جائے گا
پھیلتا جاتا ہے یہ جو ہر طرف اک شور سا
ایک سناٹا کسی دہلیز پر دھر جائے گا
یوں رہا تو سارے منظر بد نما ہو جائیں گے
اک بھیانک رنگ ہر تصویر میں بھر جائے گا
کر رہا ہے اپنی بستی میں جو خوشیوں کی تلاش
کوئی تیکھا درد اپنے ساتھ لے کر جائے گا
یوں اچانک بھی ہوا کرتا ہے کوئی حادثہ
مجھ کو کیا معلوم تھا وہ اس طرح مر جائے گا
چھا گئی نفرت کی گہری دھند اتنی دور تک
پیار کا سورج وہاں تک کون لے کر جائے گا
راہرو اب تک کھڑے ہیں راہ میں اس آس پر
کوئی آئے گا ادھر اور کچھ نہ کچھ کر جائے گا