محبت سے جنوں کی داستاں تک آ گیا ہوں میں
Balbir Rathiمحبت سے جنوں کی داستاں تک آ گیا ہوں میں
کسی کے عشق میں دیکھو کہاں تک آ گیا ہوں میں
یہ راہیں خود بخود کیسے منور ہو اٹھیں یارب
گماں ہوتا ہے منزل کے نشاں تک آ گیا ہوں میں
کسے معلوم تھا جذبات یہ بھی رنگ لائیں گے
جنوں میں اب کسی کے امتحاں تک آ گیا ہوں میں
کبھی اک درد بن کر صرف ان کے دل میں پنہاں تھا
مگر اب گیت بن کر ہر زباں تک آ گیا ہوں میں
نہیں وہ بات ہی کچھ اور تھی جس کی تمنا تھی
یوں ہی جذبات کی رو میں یہاں تک آ گیا ہوں میں
تمہاری ان حسیں مخمور آنکھوں کی قسم ہمدم
وہیں تک راہ الفت ہے جہاں تک آ گیا ہوں میں
کہیں منزل سے آگے ہی نہ آ پہنچا ہوں میں یارو
ذرا آواز دو مجھ کو کہاں تک آ گیا ہوں میں
تمنا ہے افق کے دھندلے پردے چاک کر ڈالوں
کسی کی جستجو میں اب یہاں تک آ گیا ہوں میں