کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کرو

Ejaz Obaid

کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کرو

تم اکیلے ہو دل تنہا سے ہی باتیں کرو

پھر یوں ہی مل بیٹھیں ہم اور دکھ بھری باتیں کریں

ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگو مناجاتیں کرو

سب پرندے اپنے اپنے جنگلوں میں کھو گئے

اب تو ہلتی ڈالیوں سے بیٹھ کر باتیں کرو

اتفاقاً ہم تمہارے سائے سے گزریں کبھی

بادلو تم پیار کے لمحوں کی برساتیں کرو

اب تو جیسے اس عمارت کو بھی چپ سی لگ گئی

کھڑکیو دروازو چہکو گاؤ کچھ باتیں کرو