ذہن اور دل میں جو رہتی ہے چبھن کھل جائے
Badr Wastiذہن اور دل میں جو رہتی ہے چبھن کھل جائے
آئے کاغذ پہ تو سلمائے سخن کھل جائے
قطرۂ دیدۂ نمناک مسیحائی کرے
فکر کے بند دریچوں کی شکن کھل جائے
میں اسے روز مناتا ہوں سحر ہونے تک
میرے اللہ کسی شب تو یہ دلہن کھل جائے
ایک خوشبو سی ہے جو روح کی گہرائی میں
لفظ مل جائیں تو معنی کا چمن کھل جائے
اس طرح جاگے کسی روز غزل کا جادو
جیسے مستی میں پیا سے کوئی جوگن کھل جائے
نیم شب عجز و سماجت سے کروں دست دراز
لفظ دھونے کے لئے آنکھوں میں ساون کھل جائے
سرکشی اور تجاوز سے بچانا یا رب
میرے احساس میں گر یاس کا پھن کھل جائے