دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئی

Ejaz Obaid

دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئی

اب بھی یہ دنیا ہمیں لگتی ہے پہچانی ہوئی

اشک کی بے رنگ کھیتی مدتوں میں لہلہائی

پہلے کتنا قحط تھا اب کچھ فراوانی ہوئی

خود کو ہم پہچان پائے یہ بہت اچھا ہوا

جسم کے ہیجان میں روحوں کی عریانی ہوئی

میں تو اک خوشبو کا جھونکا تیرے دامن کا ہی تھا

بوئے گل سے آ ملا کیوں تجھ کو حیرانی ہوئی

اس کا بازار ہوس میں قدرداں ہی کون تھا

جنس دل کی پھر یہاں کیوں اتنی ارزانی ہوئی