گو پرانی ہو چکی وہ ہوش میں آنے کی بات

Balbir Rathi

گو پرانی ہو چکی وہ ہوش میں آنے کی بات

لوگ پھر بھی کر رہے ہیں مجھ کو سمجھانے کی بات

رفتہ رفتہ ڈھل گئی ہے سینکڑوں نغمات میں

اے دل معصوم تیرے ایک افسانے کی بات

اپنا اپنا غم لیے پھرتے ہیں اس دنیا میں لوگ

کون سمجھے گا یہاں اب تیرے دیوانے کی بات

زندگی الجھی ہوئی ہے اور ہی جنجال میں

اب کہاں وہ ساغر و مینا کی میخانے کی بات

اجنبی ماحول میں اپنے تو لب کھلتے نہیں

تم ہی چھیڑو آج اس رنگین افسانے کی بات