Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. تاب دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینامنہ قیامت میں دکھا سکنے کے قابل دیناآسی غازی پوری
  2. ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوںمگر غیر کا نقش پا چاہتا ہوںآسی غازی پوری
  3. حرص دولت کی نہ عز و جاہ کیبس تمنا ہے دل آگاہ کیآسی غازی پوری
  4. روش اس چال میں تلوار کی ہےموت عشاق گنہ گار کی ہےآسی غازی پوری
  5. سارے عالم میں تیری خوشبو ہےاے میرے رشک گل کہاں تو ہےآسی غازی پوری
  6. قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسےیعنی وہ میں ہی کیوں نہ ہوں تجھ سا کہیں جسےآسی غازی پوری
  7. کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیےچاہنے والے کو چاہا کیجیےآسی غازی پوری
  8. کلیجا منہ کو آتا ہے شب فرقت جب آتی ہےاکیلے منہ لپیٹے روتے روتے جان جاتی ہےآسی غازی پوری
  9. نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پرکرم کرے وہ نشان قدم تو پتھر پرآسی غازی پوری
  10. وہاں پہنچ کے یہ کہنا صبا سلام کے بعدکہ تیرے نام کی رٹ ہے خدا کے نام کے بعدآسی غازی پوری
  11. اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوااور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہواآسی غازی پوری
  12. زخم دل ہم دکھا نہیں سکتےدل کسی کا دکھا نہیں سکتےآسی غازی پوری
  13. وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہےنہ دیکھے تجھے کوئی اندھا نہیں ہےآسی غازی پوری
  14. ہزاروں کی جان لے چکا ہے یہ چہرہ زیر نقاب ہو کرمگر قیامت کرو گے برپا جو نکلو گے بے حجاب ہو کرآسی غازی پوری
  15. افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میںیوں اپنی عمر رفتہ کو لوٹا رہا ہوں میںامین حزیں سیالکوٹی
  16. بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگیشعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگیامین حزیں سیالکوٹی
  17. توانا ہوں دل رنجور کی سوگند کیوں کھاؤںمیں جب مختار ہوں مجبور کی سوگند کیوں کھاؤںامین حزیں سیالکوٹی
  18. لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کرجن میں ہو کیف زندگی بہر خدا وہ کام کرامین حزیں سیالکوٹی
  19. نمود رنگ و بو نے مار ڈالااسی کی آرزو نے مار ڈالاامین حزیں سیالکوٹی
  20. یوں دل ہے سر بہ سجدہ کسی کے حضور میںجیسے کہ غوطہ زن ہو کوئی بحر نور میںامین حزیں سیالکوٹی
  21. آمامین حزیں سیالکوٹی
  22. سردیامین حزیں سیالکوٹی
  23. تبدیلیامین حزیں سیالکوٹی
  24. مجبوریامین حزیں سیالکوٹی
  25. خالہ کی مرغیامین حزیں سیالکوٹی
  26. مٹی کا دیا (امین حزیں سیالکوٹی)امین حزیں سیالکوٹی
  27. خدمت خلقامین حزیں سیالکوٹی
  28. گڑیا کی شادیامین حزیں سیالکوٹی
  29. سال گرہ کا تحفہامین حزیں سیالکوٹی
  30. بچہ مزدورامین حزیں سیالکوٹی
  31. نیا سال (امین حزیں سیالکوٹی)امین حزیں سیالکوٹی
  32. عید کا منظرامین حزیں سیالکوٹی
  33. ان سے دو آنکھ سے آنسو بھی بہائے نہ گئےقبر عاشق کے نشاں بھی تو مٹائے نہ گئےعاشق اکبرآبادی
  34. اے دل اس زلف کی رکھیو نہ تمنا باقیحشر تک ورنہ رہے گی شب یلدا باقیعاشق اکبرآبادی
  35. تجھ کو کس منہ سے بے وفا کہئےکوئی پوچھے سبب تو کیا کہئےعاشق اکبرآبادی
  36. جو دل میں خون تمنا کیا نہ کرتے ہمتو مثل شعلہ بھڑک کر جلا نہ کرتے ہمعاشق اکبرآبادی
  37. داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوںگو میں چمن تازہ ہوں پر وقف خزاں ہوںعاشق اکبرآبادی
  38. روز دینے لگے آزار یہ کیااور سمجھتے ہو اسے پیار یہ کیاعاشق اکبرآبادی
  39. رہی ان کی چین جبیں دیر تکچڑھایا کئے آستیں دیر تکعاشق اکبرآبادی
  40. ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہےپس امتحاں امتحاں ہو رہا ہےعاشق اکبرآبادی
  41. فلک چکر میں کیوں چونسٹھ گھڑی ہےگرہ اس کے بھی طالع میں کڑی ہےعاشق اکبرآبادی
  42. کون کہتا ہے کہ مرنا مرا اچھا نہ ہوافکر درماں نہ ہوئی رنج مداوا نہ ہواعاشق اکبرآبادی
  43. گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھہاں مگر آیا تو اک حسرت کا داغ آیا ہے ہاتھعاشق اکبرآبادی
  44. گزرے وعدے کو وہ خود یاد دلا دیتے ہیںدل کی سوئی ہوئی حسرت کو جگا دیتے ہیںعاشق اکبرآبادی
  45. لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میںیہی تو رہزنوں میں ہیں یہی ہیں دل کے چوروں میںعاشق اکبرآبادی
  46. نہ مانا میرا کہنا دل گیا کیوں داد خواہی کوسزا دیتے ہیں واں مجرم بنا کر بے گناہی کوعاشق اکبرآبادی
  47. وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیںہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیںعاشق اکبرآبادی
  48. ہماری اس سے جو صورت ہوئی صفائی کیہجوم غم نے عدو پر بڑی چڑھائی کیعاشق اکبرآبادی
  49. ہوس کیجے نہ عمر جاوداں کیہے عمر خضر بھی ایسی کہاں کیعاشق اکبرآبادی
  50. فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سےاور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سےعاشق اکبرآبادی