اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میں

Ejaz Obaid

اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میں

میں جو رویا تو کوئی ہنستا رہا تھا مجھ میں

میری آنکھوں سے خبر جان نہ لی ہو اس نے

کوئی بادل تھا بہت ٹوٹ کے برسا مجھ میں

جھانکنے سے مری آنکھوں میں سبھی ڈرنے لگے

جب سے اترا ہے کوئی آئینہ خانہ مجھ میں

کیا ہوا تھا مجھے کیوں سوچتا تھا اس کے خلاف

ورنہ اس کو تھا عجب ایک عقیدہ مجھ میں

ساتھ ساتھ اس کے میں خود روتا رہا تھا اس شام مگر

اس کو دیتا جو دلاسہ وہ نہیں تھا مجھ میں