شہر بدلا ہوا سا لگتا ہے

Balbir Rathi

شہر بدلا ہوا سا لگتا ہے

ہر کوئی اوپرا سا لگتا ہے

مجھ کو اکثر خود اپنے اندر ہی

کچھ بھٹکتا ہوا سا لگتا ہے

جانے کیا بات ہے کہ گھر مجھ کو

روز گرتا ہوا سا لگتا ہے

مجھ کو ہر شخص اپنی بستی کا

خود سے روٹھا ہوا سا لگتا ہے

درد سے یوں نجات کب ہوگی

وقت ٹھہرا ہوا سا لگتا ہے

زخم کھائے ہوئے زمانہ ہوا

درد اب تک نیا سا لگتا ہے

داستانیں ہیں خوب سب کی مگر

اپنا قصہ جدا سا لگتا ہے