تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی
Ejaz Obaidتھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی
اب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنایتیں اپنی
کہ برگ ہائے خزاں دیدہ جوں اڑائے ہوئے
کشاں کشاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں اپنی
سبھی کو شک ہے کہ خود ہم میں بے وفائی ہے
کہاں کہاں نہ ہوئی ہیں شکایتیں اپنی
چلے جہاں سے تھے اب آؤ لوٹ جائیں وہیں
نکالیں راہوں نے ہم سے عداوتیں اپنی
کچھ اور کر دے گی بوجھل فضا کو خاموشی
چلو کہ شور مچائیں شرارتیں اپنی
ہمارا جو بھی تعلق تھا اس کے دم سے تھا
لو آج ختم ہوئیں سب رقابتیں اپنی