پھل درختوں سے گرے تھے آندھیوں میں تھال بھر
Badr Wastiپھل درختوں سے گرے تھے آندھیوں میں تھال بھر
میرے حصے میں مگر آئے نہیں رومال بھر
پہلے سارے پنچھیوں کو پر ملیں پرواز کے
پھر شکاری سے کہے کوئی کہ اپنا جال بھر
موسموں کی سختیاں تو بادلوں سی اڑ گئیں
آج بھی محفوظ کب ہے دل کا شیشہ بال بھر
دھند ہی چھائی رہی آنکھوں میں تم سے کیا کہیں
اب تو یارو ایک سا رہتا ہے موسم سال بھر
دھوپ کی من مانیوں پر مسکراتے تھے کبھی
ان تناور پیڑوں پر پتے بچے ہیں ڈال بھر
ایک شے کا نام جو بتلائے اس کا نام ہو
اپنی گلیوں میں نہیں ہے ممبئی سی چال بھر
اور ہم سے کیا تقاضہ ہے ترا عصر رواں
جان و تن کا نام ہے بس ہڈیوں پر کھال بھر