Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہمیا اس سے کہ کج کلاہ ہو سکتے ہمسید محمد عبد الغفور شہباز
  2. ایرانی فصاحت اور حجازی غیرتیونانی بلاغت اور رومی حکمتسید محمد عبد الغفور شہباز
  3. پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفرممکن ہی نہیں اس سے کسی طرح مفرسید محمد عبد الغفور شہباز
  4. تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روحمینا ہے یہ اور بادۂ ناب ہے روحسید محمد عبد الغفور شہباز
  5. جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہرہو اس سے رذیلوں کی برائی ظاہرسید محمد عبد الغفور شہباز
  6. دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیںمحراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیںسید محمد عبد الغفور شہباز
  7. یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہےہر طرح سے جو خیال کو بھائی ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
  8. کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہسمجھ میں لعل کی اب تک حنا نہیں آئیسید محمد عبد الغفور شہباز
  9. آ گئی فصل نو بہار دشت میں وہ ہوا چلیسر پہ ہوا جنوں سوار عقل پیادہ پا چلیQadr Bilgrami
  10. بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہےیہ گھر جس نے بنایا ہے وہ وہ صاحب خانہ آتا ہےQadr Bilgrami
  11. پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہےاک خطا ہو گئی بشر ہی تو ہےQadr Bilgrami
  12. جب آنکھ بند ہوگی دیدار دیکھ لیں گےکب تک چھپوگے ہم سے اے یار دیکھ لیں گےQadr Bilgrami
  13. جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گاٹوکری پھولوں کی سارا آشیاں ہو جائے گاQadr Bilgrami
  14. جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کاوہی ہے تمغہ مری جبیں کا وہی سلیماں مرے نگیں کاQadr Bilgrami
  15. جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتےجو عضو ظاہر خدا بناتا تو دیدۂ اشک بار ہوتےQadr Bilgrami
  16. جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیںوہ یہاں بھی ہے وہ وہاں بھی ہے وہ کہیں نہیں وہ کہاں نہیںQadr Bilgrami
  17. شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالیجھکی ہے بلا پر بلا کالی کالیQadr Bilgrami
  18. غنچے چٹک گئے چمن روزگار کےپھوٹے حباب موج نسیم بہار کےQadr Bilgrami
  19. گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پرسن برستا رہے ساقی ترے میخانے پرQadr Bilgrami
  20. لا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیںہائے اس بھول بھلیاں میں دغا دیتے ہیںQadr Bilgrami
  21. منکر ہوتے ہیں ہنر والےنخل جھک جاتے ہیں ثمر والےQadr Bilgrami
  22. ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کاکام کر جائے سپاہی نام ہو سردار کاQadr Bilgrami
  23. ہوئی ہے ہم میں اور اس گل میں کیا کیا مار پھولوں کیگلے تک اٹھ گئی گلزار میں دیوار پھولوں کیQadr Bilgrami
  24. ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئےجو گرے تو نقش قدم بنے جو اٹھے تو بانگ درا ہوئےQadr Bilgrami
  25. افسردہ دل کے واسطے کیا چاندنی کا لطفلپٹا پڑا ہے مردہ سا گویا کفن کے ساتھQadr Bilgrami
  26. جہاں گلشن وہاں گل ہے جہاں گل ہے وہاں بو ہےجہاں الفت وہاں میں ہوں جہاں میں ہوں وہاں تو ہےQadr Bilgrami
  27. دیکھنا غافل نہ رہنا چشم تر سے دیکھناآئنہ جب دیکھنا میری نظر سے دیکھناQadr Bilgrami
  28. عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھاوہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھاTabish Kamal
  29. عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھےنگاہ دیکھ رہی تھی کہ گھر کچھ اور سے تھےTabish Kamal
  30. کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہےکس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہےTabish Kamal
  31. کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتاہاں مگر اس نگر نہیں رہتاTabish Kamal
  32. نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہےہمیں آخر وہ کیوں ملتا نہیں ہےTabish Kamal
  33. ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھانظر میں دور تک ساحل نہیں تھاTabish Kamal
  34. یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہےزمیں سے آسماں کا فاصلہ ہےTabish Kamal
  35. یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھاجب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھاTabish Kamal
  36. چائے کی بھاپ میںگھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپنTabish Kamal
  37. چند سال اس طرفہم شناسا نگاہوں سے بچتے بچاتےTabish Kamal
  38. خواب کی سلطنت سے ادھراک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لےTabish Kamal
  39. سرخ آنکھیں گھماتے ہوئے بھیڑیے رات کا حسن ہیںسرسراتے ہوئے شاخچوں میں چھپے ماندہ پنچھیTabish Kamal
  40. عزیزو!اگر رات رستے میں آئےTabish Kamal
  41. غبار شام کے بے عکس منظر میں ہوا کی سائیں سائیںپنچھیوں کو ہانکتی ہےTabish Kamal
  42. کھجوروں سے مہکی ہوئی شام تھیشتر پر مال و اسباب تھا اور میں اک سرائے کے در پر کھڑاTabish Kamal
  43. گھڑی دو گھڑی کی مسرتیہ صدیوں پہ پھیلا ہوا دیو قصہ ہمارے لہو میں رواں ہےTabish Kamal
  44. گئے برسوں اک حاصل کیا!فقط اک موم بتی تین سو پینسٹھ دنوں میںTabish Kamal
  45. وہی بہار و خزاں ہے مجھ میں بھیمجھ سے باہر بھیTabish Kamal
  46. ہر طرف کترنیں ہیںوہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہیTabish Kamal
  47. اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھامیں اس کے واسطے کس وقت بے قرار نہ تھاآسی غازی پوری
  48. ایک جلوے کی ہوس وہ دم رحلت بھی نہیںکچھ محبت نہیں ظالم تو مروت بھی نہیںآسی غازی پوری
  49. اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئیپھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئیآسی غازی پوری
  50. پھر مزاج اس رند کا کیونکر ملےجس کو اس کے ہاتھ سے ساغر ملےآسی غازی پوری