Poetry
Poet
Meter
- اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہمیا اس سے کہ کج کلاہ ہو سکتے ہمسید محمد عبد الغفور شہباز
- ایرانی فصاحت اور حجازی غیرتیونانی بلاغت اور رومی حکمتسید محمد عبد الغفور شہباز
- پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفرممکن ہی نہیں اس سے کسی طرح مفرسید محمد عبد الغفور شہباز
- تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روحمینا ہے یہ اور بادۂ ناب ہے روحسید محمد عبد الغفور شہباز
- جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہرہو اس سے رذیلوں کی برائی ظاہرسید محمد عبد الغفور شہباز
- دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیںمحراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیںسید محمد عبد الغفور شہباز
- یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہےہر طرح سے جو خیال کو بھائی ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
- کہاں نصیب زمرد کو سرخ روئی یہسمجھ میں لعل کی اب تک حنا نہیں آئیسید محمد عبد الغفور شہباز
- آ گئی فصل نو بہار دشت میں وہ ہوا چلیسر پہ ہوا جنوں سوار عقل پیادہ پا چلیQadr Bilgrami
- بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہےیہ گھر جس نے بنایا ہے وہ وہ صاحب خانہ آتا ہےQadr Bilgrami
- پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہےاک خطا ہو گئی بشر ہی تو ہےQadr Bilgrami
- جب آنکھ بند ہوگی دیدار دیکھ لیں گےکب تک چھپوگے ہم سے اے یار دیکھ لیں گےQadr Bilgrami
- جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گاٹوکری پھولوں کی سارا آشیاں ہو جائے گاQadr Bilgrami
- جو داغ ہے عشق دل نشیں کا جو دل نشیں ہیں دل حزیں کاوہی ہے تمغہ مری جبیں کا وہی سلیماں مرے نگیں کاQadr Bilgrami
- جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتےجو عضو ظاہر خدا بناتا تو دیدۂ اشک بار ہوتےQadr Bilgrami
- جو ہے عرش پر وہی فرش پر کوئی خاص اس کا مکاں نہیںوہ یہاں بھی ہے وہ وہاں بھی ہے وہ کہیں نہیں وہ کہاں نہیںQadr Bilgrami
- شب غم میں چھائی گھٹا کالی کالیجھکی ہے بلا پر بلا کالی کالیQadr Bilgrami
- غنچے چٹک گئے چمن روزگار کےپھوٹے حباب موج نسیم بہار کےQadr Bilgrami
- گردن شیشہ جھکا دے مرے پیمانے پرسن برستا رہے ساقی ترے میخانے پرQadr Bilgrami
- لا کے دنیا میں ہمیں زہر فنا دیتے ہیںہائے اس بھول بھلیاں میں دغا دیتے ہیںQadr Bilgrami
- منکر ہوتے ہیں ہنر والےنخل جھک جاتے ہیں ثمر والےQadr Bilgrami
- ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کاکام کر جائے سپاہی نام ہو سردار کاQadr Bilgrami
- ہوئی ہے ہم میں اور اس گل میں کیا کیا مار پھولوں کیگلے تک اٹھ گئی گلزار میں دیوار پھولوں کیQadr Bilgrami
- ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئےجو گرے تو نقش قدم بنے جو اٹھے تو بانگ درا ہوئےQadr Bilgrami
- افسردہ دل کے واسطے کیا چاندنی کا لطفلپٹا پڑا ہے مردہ سا گویا کفن کے ساتھQadr Bilgrami
- جہاں گلشن وہاں گل ہے جہاں گل ہے وہاں بو ہےجہاں الفت وہاں میں ہوں جہاں میں ہوں وہاں تو ہےQadr Bilgrami
- دیکھنا غافل نہ رہنا چشم تر سے دیکھناآئنہ جب دیکھنا میری نظر سے دیکھناQadr Bilgrami
- عجب یقین سا اس شخص کے گمان میں تھاوہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اڑان میں تھاTabish Kamal
- عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھےنگاہ دیکھ رہی تھی کہ گھر کچھ اور سے تھےTabish Kamal
- کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہےکس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہےTabish Kamal
- کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتاہاں مگر اس نگر نہیں رہتاTabish Kamal
- نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہےہمیں آخر وہ کیوں ملتا نہیں ہےTabish Kamal
- ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھانظر میں دور تک ساحل نہیں تھاTabish Kamal
- یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہےزمیں سے آسماں کا فاصلہ ہےTabish Kamal
- یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھاجب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھاTabish Kamal
- چائے کی بھاپ میںگھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپنTabish Kamal
- چند سال اس طرفہم شناسا نگاہوں سے بچتے بچاتےTabish Kamal
- خواب کی سلطنت سے ادھراک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لےTabish Kamal
- سرخ آنکھیں گھماتے ہوئے بھیڑیے رات کا حسن ہیںسرسراتے ہوئے شاخچوں میں چھپے ماندہ پنچھیTabish Kamal
- عزیزو!اگر رات رستے میں آئےTabish Kamal
- غبار شام کے بے عکس منظر میں ہوا کی سائیں سائیںپنچھیوں کو ہانکتی ہےTabish Kamal
- کھجوروں سے مہکی ہوئی شام تھیشتر پر مال و اسباب تھا اور میں اک سرائے کے در پر کھڑاTabish Kamal
- گھڑی دو گھڑی کی مسرتیہ صدیوں پہ پھیلا ہوا دیو قصہ ہمارے لہو میں رواں ہےTabish Kamal
- گئے برسوں اک حاصل کیا!فقط اک موم بتی تین سو پینسٹھ دنوں میںTabish Kamal
- وہی بہار و خزاں ہے مجھ میں بھیمجھ سے باہر بھیTabish Kamal
- ہر طرف کترنیں ہیںوہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہیTabish Kamal
- اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھامیں اس کے واسطے کس وقت بے قرار نہ تھاآسی غازی پوری
- ایک جلوے کی ہوس وہ دم رحلت بھی نہیںکچھ محبت نہیں ظالم تو مروت بھی نہیںآسی غازی پوری
- اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئیپھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئیآسی غازی پوری
- پھر مزاج اس رند کا کیونکر ملےجس کو اس کے ہاتھ سے ساغر ملےآسی غازی پوری