پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہے

Qadr Bilgrami

پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہے

اک خطا ہو گئی بشر ہی تو ہے

اتنا بھاری نہ ڈالیے موباف

بل نہ کھائے کہیں کمر ہی تو ہے

میری آہوں سے ان کے دل میں اثر

کبھی یوں بھی اڑے خبر ہی تو ہے

پاؤں پھیلائے ہم نے مرقد میں

چلتے چلتے تھکے سفر ہی تو ہے

قدرؔ نے کیا زبان پائی ہے

لوگ کہتے ہیں یہ سحر ہی تو ہے