ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے

Qadr Bilgrami

ہوئے کارواں سے جدا جو ہم رہ عاشقی میں فنا ہوئے

جو گرے تو نقش قدم بنے جو اٹھے تو بانگ درا ہوئے

کبھی داغ کھاتے ہی آہ کی کہیں آہ کرتے ہی رو دئے

کبھی ہم چمن کی ہوا ہوئے کبھی ہم ہوا کی گھٹا ہوئے

جو ہوائے درد بکھر گئی نظر ان کی صاف بدل گئی

جو اسیر حلقۂ ناز تھے وہ قتیل تیغ ادا ہوئے

ہمہ تن کبھی ہوئے درد و غم ہمہ تن کبھی ہوئے صبر ہم

کبھی آپ اپنا مرض ہوئے کبھی آپ اپنی دوا ہوئے

ہوا بعد وصل عجب مزا کہ خموش بیٹھے جدا جدا

ہمہ تن میں صبر و سکوں ہوا ہمہ تن و شرم و حیا ہوئے

اٹھے ہم جو خواب و خیال سے لگے تکنے دیدۂ جال سے

کہ وہ کب اٹھے وہ کدھر گئے ابھی پاس تھے ابھی کیا ہوئے

یہ قدم قدم پہ جمیں گے پاؤں کہ بڑھ سکو گے نہ آگے تم

ہو تمہارے کوچے کی خاک میں کہیں دفن اہل وفا ہوئے