ہر طرف کترنیں ہیں

Tabish Kamal

ہر طرف کترنیں ہیں

وہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہی

اور یہ دھاگے، یقیناً وہ گیسو ہیں جن کے لیے میری راتیں کٹیں

روئی دھنکی ہوئی ہے

کہیں خون کا کوئی دھبہ نہیں

اک طرف اس کی پوشاک ادھڑی پڑی ہے

ادھر اس کی آنکھیں، کٹے ابروؤں سے الگ،

خوف و دہشت میں لتھڑی ہوئی

ہر طرف کترنیں ہیں

بدن ریشہ ریشہ ہے

نیچے کا دھڑ چیل کوے اٹھا لے گئے

لبوں کا لہو جم گیا ہے

گلے پر کسی گرگ کے دانت کھینچے ہوئے ہیں

وہ گڑیا نہیں ہے مگر ہر طرف کترنیں ہیں

میں آئندہ گڑیا کی خاطر کپاس اور دھاگے نہیں لاؤں گا

کترنیں لے کے اپنی کسی اور جانب نکل جاؤں گا